تحریر: مولانا ابو مبین محمد امین  عطاری مدنی

(اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ) فیصل آباد)

عربی لغت قرآنِ کریم،علومِ قرآن،علمِ حدیث ،علمِ عقائد، علمِ فقہ ،علمِ منطق ،علمِ میراث اوردیگر علومِ اسلامیہ کو سمجھنے کا بنیادی ذریعہ ہے، جس سے علمائے کرام ،اساتذۂ کرام ،طلبائے کرام یکساں طور پر فیض یاب ہو سکتے ہیں اور علومِ اسلامیہ کی درست معلومات کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب عربی لغت دیکھنے اور سمجھنے میں پختگی حاصل ہو۔اس لیے علما و طلبا پر لازم ہے کہ وہ علمِ لغت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے عربی لغت کے مختلف پہلوؤں کی معرفت اور اس کے اصول و ضوابط سے واقفیت حاصل کرنے میں وقت صَرف کریں۔اسی مقصد کے لیے تقریباً ہر دور میں بزرگانِ دین کی ایک جماعت فَعّال رہی ہے اس لیے عربی لغت کے الفاظ و معانی کی وضاحت کے لیے اہلِ لغات نے مختلف ادوار میں بڑی بڑی لغات مرتب کی ہیں۔ اُن میں سے القاموس المحیط کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ القاموس المحیط کتاب اپنی جامعیت، اختصار، مواد کی وسعت اور نادر لغوی فوائد کی بنا پر صدیوں سے علما ، محدثین، مفسرین، فقہا ،اُدَبا، اساتذہ اور طلبائے کرام کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ متعدد اہلِ علم نے اس سے فائدہ حاصل کیا اور اس پر شرحیں اور تعلیقات تحریر کی ہیں۔ ذیل میں القاموس المحیط لغت کے مصنف کا نام، القاموس المحیط کا امتیاز ، القاموس المحیط کی خصوصیات ، القاموس المحیط کی مشہور شروحات اور القاموس المحیط سے معانی دیکھنے کا طریقہ پیشِ خدمت ہے۔

مصنف کا نام

مشہور ماہرِ لغت” ابو طاہر مجد الدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی (المتوفى: ۸۱۶ھ) “ہے۔

(مجد الدين ابو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: 816ھ)،القاموس المحیط(بیروت:دار الکتاب العربی 2018،صفحہ:5)

القاموس المحیط کا امتیاز

القاموس المحیط اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت اہم اور معتبر کتاب ہے،اس کی علمی افادیت اور مواد کی وسعت اسے دیگر عربی لغات سے ممتاز کرتی ہے۔

القاموس المحیط کی خصوصیات

(1): القاموس المحیط کی نمایاں خصوصیت اس کے مواد کی وسعت ہے کیونکہ اس میں ” اَلْعُبَاب “اور” اَلْمُحْكَم “جیسی لغت کی کتابوں کا نچوڑ جمع کر دیا گیا ہے۔

(2): القاموس المحیط میں ایسی معلومات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جن کی ہر لغت دان اور ادیب کو ضرورت پیش آتی ہے۔ جیسا کہ صاحبِ القاموس المحیط نے مقدمے میں خود فرمایا: سَمَّيْتُهُ الْقَامُوْسَ الْمُحِيْطَ لِاَنَّهُ الْبَحْرُ الْاَعْظَمُ یعنی میں نے اس کتاب کا نام” القاموس المحیط “ رکھا کیونکہ یہ اپنے موضوع میں ایک عظیم اور بے کنار سمندر کی حیثیت رکھتی ہے۔

(مجد الدين ابو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: 816ھ)،القاموس المحیط(بیروت:دار الکتاب العربی 2018،صفحہ:6)

(3): حرفِ علت واو اور یا کے ابواب کو الگ الگ واضح کیا گیا ہے۔

(4): اُن الفاظ کو حذف کر دیا جن کے معانی کا تکرار بہت زیادہ تھا۔

(5): جن مقامات میں تفصیل کی ضرورت نہ تھی وہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔

(6):اصطلاحات کے لیے رموز استعمال کیےگئے ہیں، مثلاً: موضع(جگہ،مقام) کے لیے ”ع“۔بلد (شہر) کے لیے ”د“۔قریۃ(گاؤں،دیہات) کے لیے ”ۃ“۔جمع کا صیغہ بتانے کے لیے ”ج“ اور معروف کا صیغہ بتانے کے لیے ”م“۔

القاموس المحیط پر لکھی گئی شروحات

القاموس المحیط میں جمع کیا گیا لغوی سرمایہ نہایت قیمتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے اہلِ ادب اور ماہرینِ لغت نے اس پر شرحیں اور تعلیقات لکھیں۔ ان میں سے 3 کے نام یہ ہیں:

(1): سید محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی، جنہوں نے اس کی مشہور شرح ”تاج العروس من جواهر القاموس “تصنیف کی۔

(2): احمد فارس الشدیاق، جنہوں نے ”الجاسوس على القاموس“ کے نام سے کتاب لکھی۔

(3): احمد تیمور، جنہوں نے ” تصحيح القاموس “کے نام سے کتاب لکھی۔

القاموس المحیط لغت سے معانی دیکھنے کا طریقہ

مشہور ماہرِ لغت ابو طاہر مجد الدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی نے القاموس المحیط کی ترتیب کسی بھی صیغےکے آخری حرف یعنی نَصَرَ کے را کو مَدِّنظر رکھتے ہوئے فصل اور باب کے اعتبار سے تصنیف کی ہے۔

یاد رکھیں!

(1): مطلوبہ صیغے کے اصلی حروف ( ف ،ع ،لام کلمہ) یعنی مادۂ اشتقاق معلوم کریں۔

(2):صیغے کو آخری حرف کے اعتبار سے باب میں تلاش کریں۔

(3): پھر پہلے حرف کے مطابق فصل میں جائیں۔

مثال:صیغہ ” مَكْتَبَةٌ “کا مادۂ اشتقاق ك ت ب ہے۔ چونکہ آخری حرف ب ہے، اس لیے باب الباء میں جائیں، پھر فصل الكاف میں كَتَبَ کے تحت اس کا معنیٰ تلاش کریں۔

(4):متعلقہ مادۂ اشتقاق کے تحت صیغے کے معانی، جمع، مصدر اور دیگر استعمالات دیکھیں۔

تاریخ:2026/06/21